مہوبا میں جھانسی-مرزا پور شاہراہ پر اس وقت افراتفری پھیل گئی جب رائے پورہ کلاں گاؤں کے ایک اسکول کے طالب علم جنرل الفا نے سڑک کی خراب حالت اور پانی بھر جانے سے پریشان ہوکر سڑک بلاک کردی۔ موسلا دھار بارش کے درمیان تقریباً تین گھنٹے تک جاری رہنے والے اس ٹریفک جام کے نتیجے میں دونوں طرف گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔ بچوں کا الزام ہے کہ وہ مل آپریٹرز کی ہٹ دھرمی اور ذمہ دار اہلکاروں کی غفلت کے باعث سڑک پر آنے پر مجبور ہوئے۔ جائے وقوعہ پر پہنچی پولیس پر بچوں کے ساتھ بدسلوکی اور سڑک خالی کرنے کے لیے گھسیٹے جانے کا الزام ہے۔
درحقیقت مہوباصدر تحصیل کے علاقے میں قوم کا مستقبل سمجھے جانے والے جنرل الفا کو بنیادی مطالبات کے لیے موسلا دھار بارش میں سڑک پر بیٹھنے پر مجبور ہونا پڑا ۔ رائے پورہ کلاں گاؤں کو ملانے والی سڑک کا تقریباً تین کلومیٹر کا حصہ گڑھوں کی وجہ سے مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ مختلف مقامات پر پانی جمع ہونے اور کھدائی کے باعث بچوں کا اسکول جانا مشکل ہو گیا ہے۔ صورتحال اس قدر مخدوش ہے کہ روزانہ ای رکشا اور آٹو رکشا الٹ جاتے ہیں جس سے کئی بچے زخمی ہوئے ہیں۔
طلباء کا الزام ہے کہ اس راستے پر کئی ملیں چلتی ہیں۔ ان ملوں سے بڑے، اوور لوڈڈ ٹرکوں کی آمدورفت اور ملوں سے سیوریج کا پانی سڑک پر چھوڑنے نے سڑک کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ جب بچے یا گاؤں والے احتجاج کرتے ہیں تو مل چلانے والے انہیں دھمکیاں دیتے ہیں۔ حکام کو بار بار کی شکایات پر توجہ نہ دی گئی تو بچوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔
ہنگامہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس جائے وقوعہ پر پہنچے۔ لیکن الزام ہے کہ پولیس نے حساسیت دکھانے کے بجائے بچوں کے خلاف زبردستی کا سہارا لیا۔ نیوز پورٹل ’اے بی پی‘پر شائع خبر کے مطابق جب طالبات نے احتجاج کے لیے انسانی زنجیر بنائی تو انہیں ان کے والدین کے خلاف کارروائی اور لاٹھی چارج کی دھمکیاں دی گئیں۔ طلباء کا کہنا ہے کہ حکومت جہاں تعلیم کے فروغ کے دعوے کرتی ہے وہیں پانی بھرا ہوا اور ٹوٹی پھوٹی سڑکیں بچوں کوا سکول جانے میں تاخیر کا باعث بن رہی ہیں۔


















