بامبے ہائی کورٹ نے مرکزی وزیر برائے ٹرانسپورٹ و شاہراہ نتن گڈکری کے خلاف آن لائن ڈیپ فیک پوسٹ کو ’فحش، جارحانہ اور توہین آمیز‘ قرار دیتے ہوئے انہیں ہٹانے کا حکم دیا ہے۔ ساتھ ہی عدالت نے گڈکری کو میٹا پلیٹ فارمز، ایکس کارپ، گوگل اور نامعلوم آن لائن کنٹینٹ کریئٹرز کے خلاف بدنام کرنے والے اور ایڈٹ شدہ سوشل میڈیا پوسٹ کے متعلق سول مقدمہ کرنے کی اجازت دی ہے۔ جسٹس عارف ڈاکٹر کی سنگل بنچ نے میٹا، ایکس کارپ اور گوگل ایل ایل سی کو ہدایت دی کہ وہ فوراً ان پوسٹس کو ہٹانے کا کام کریں۔ عدالت نے کہا کہ ایسی پوسٹ آن لائن نہیں ہونی چاہیے اور جہاں ہر کوئی خاص کر نوجوان نسل انہیں دیکھ سکے۔
عدالت نے آن لائن پلیٹ فارمز سے یہ بھی سوال کیا کہ کیا ان کے پاس کوئی سسٹم ہے، جس سے بغیر عدالت گئے ایسی پوسٹس کو ہٹایا جا سکے۔ ہائی کورٹ نے یہ بھی کہا کہ پلیٹ فارمز کو ایسی پوسٹ خود ہٹا دینا چاہیے۔ جسٹس عارف نے کہا کہ ’’آپ کے پاس اتنی ٹیکنالوجی ہے، تو کیا آپ کے پاس کوئی ایسا سسٹم نہیں ہے جو ایسے معاملات کو پکڑ سکے؟ اگر کوئی فحش یا توہین آمیز مواد ڈالتا ہے تو اسے فوراً ہٹا دیا جانا چاہیے۔ یہ بہت ہی گھٹیا بات ہے، ہر کوئی زہر اگل رہا ہے۔
واضح رہے کہ نتن گڈکری کی جانب سے یہ کیس ای-20 کو لے کر اے آئی کی مدد سے تیار کردہ ڈیپ فیک ویڈیو کو لے کر دائر کیا گیا تھا۔ ڈیپ فیک ویڈیو میں گڈکری اور ان کے اہل خانہ کو حکومت کی ای-20 ایتھنول-بلینڈڈ پٹرول پالیسی سے ہونے والے مالی فائدے سے غلط طریقے سے جوڑا گیا تھا۔ گڈکری کی عرضی میں واضح طور پر ذکر کیا گیا ہے کہ ایتھنول-بلینڈنگ پروگرام مکمل طور سے پٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت چلاتا ہے نہ کہ ان کا محکمہ۔ مرکزی وزیر نے قابل اعتراض ڈیجیٹل مواد کو فوری طور پر ہٹانے کے لیے عدالت سے حکم طلب کیا تھا، ساتھ ہی وقار کو پہنچنے والے نقصان کے لیے 11 کروڑ روپے ہرجانہ بھی مانگا تھا۔

















