آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اسدالدین اویسی نے مرکزی حکومت اور فرقہ پرست طاقتوں کو نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ بی جے پی اب این پی آر (قومی آبادی رجسٹر) اور این آرسی (قومی شہریت قانون) کے بجائے ایس آئی آر (اسپیشل انٹینسیو رویژن) کے ذریعہ لوگوں کی شہریت چھیننے کی کوشش کررہی ہے۔
اے آئی ایم آئی ایم کے 68 ویں یوم تاسیس کے موقع پر ہفتے کی رات دارالسلام، حیدرآباد میں پارٹی ہیڈکوارٹر میں منعقد ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے مرکزی حکومت اور فرقہ پرست طاقتوں پر شدید حملہ کیا۔ بہار کے ممبران اسمبلی اور مہاراشٹر کے نو منتخب میونسپل کونسل ممبران کی موجودگی میں اویسی نے ایس آئی آرسروے کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ بی جے پی اب این پی آر اور این آر سی کے بجائے ایس آئی آر کے ذریعے شہریوں کی شہریت چھیننے کی کوشش کر رہی ہے۔
اویسی نے اپنے خطاب کے آغاز میں عوام سے اپنے سیل فون کی لائٹ جلانے کی اپیل کی اور 14 فروری 2019 کو پلوامہ میں شہید ہوئے 40 سی آر پی ایف جوانوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان بہادر سپاہیوں کی شہادت کو یاد کرتے ہیں اور وزیر اعظم سے امید کرتے ہیں کہ وہ پڑوسی ممالک سے پھیلائی جارہی دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔
اویسی نے انتہائی سخت لہجے میں کہا کہ آج ملک میں اپنے حقوق مانگنے والوں کو دشمن قرار دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ امبیڈکر کے آئین میں یقین رکھنے والے دلت کو فرقہ پرست طاقتیں دشمن تصور کرتی ہیں۔ ایک قبائلی جو اپنی زمین کی حفاظت کی بات کرتا ہے یا روزگار کی تلاش میں بے روزگار نوجوان کو انتظامیہ کا دشمن قرار دیا جاتا ہے۔ ہماری ٹوپی، داڑھی اور بیٹیوں کے حجاب سے کچھ لوگوں کو پریشانی ہوتی ہے۔ اویسی نے زور دے کر کہا کہ اس ملک کی خوبصورتی اس کے متنوع مذاہب اور ان کی عبادت گاہوں میں پنہاں ہے۔ انہوں نے اپنے بزرگوں کے اس خواب کا ذکر کیا جہاں مندر کے گھنٹوں کی آواز کے ساتھ مساجد سے’حی علی الفلاح‘ کی صدائیں گونجنی چاہئے۔


















