بہار کے سابق وزیر اعلیٰ اور راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے سربراہ لالو پرساد یادو کی دیوگھر ضلع ٹریزری معاملہ میں ملی سزا کی معطلی کو چیلنج کرنے والی درخواست پر سپریم کورٹ میں اپریل سے سماعت ہوگی۔ خیال رہے کہ سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) نے سپریم کورٹ میں لالو یادو کی سزا کی معطلی کو چیلنج کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ لوگ غیر قانونی طور پر باہر ہیں۔
واضح رہے کہ سی بی آئی کی جانب سے ’چارہ گھوٹالے‘ میں سزا یافتہ ملزمان کی سزا کی معطلی کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی گئی تھی۔ اس معاملے میں منگل (17 فروری) کو جسٹس ایم ایم سندریش اور جسٹس این کے سنگھ کی بنچ میں سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران سی بی آئی کے وکیل نے کہا کہ یہ تمام ملزمان غیر قانونی طور پر باہر ہیں، اور یہ سزا سنائے جانے کے بعد کی صورتحال ہے۔ اس پر سپریم کورٹ نے کہا کہ فائلیں یونہی زیر التواء ہیں، ہم اپریل میں سماعت کی تاریخ دیں گے، جن معاملوں میں مدعا علیہان کی موت ہو گئی ہے انہیں ہم بند کر دیں گے۔
قابل ذکر ہے کہ ’دیوگھر ضلع ٹریژری گھوٹالے‘ میں 1990 اور 1994 کے درمیان دیوگھر ٹریژری سے 89 لاکھ روپے کی مبینہ ہیرا پھیری شامل ہے۔ سابق مرکزی وزیر ریل کو اس گھوٹالے میں قصوروار ٹھہرایا گیا تھا۔ 2017 میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے انہیں 3.5 سال کی سزا سنائی تھی۔
دیوگھر ضلع کے محکمہ حیوانات کو ادویات اور اسپتال کے لیے سامانوں کی خریداری کے لیے 4.7 کروڑ روپے دیے گئے تھے۔ لیکن الزام لگا کہ گھوٹالہ کرنے والوں نے جعلی رسید کے سہارے 89 لاکھ روپے سے زائد کی رقم نکال لی۔ اس کیس میں لالو پرساد یادو پر الزام ہے کہ انہوں نے عہدے کا غلط استعمال کیا۔ معاملے کی تحقیقات کے لیے آنے والی فائلوں کو اپنے پاس روکے رکھا۔ جب معاملہ سنگین ہو تو تحقیقات کا حکم دیا گیا۔ لالو پرساد یادو دیوگھر چارہ گھوٹالہ معاملہ کے ساتھ ساتھ 4 دیگر معاملوں میں بھی سزا یافتہ ہیں۔ انہیں چائیباسا ٹریژری سے غیر قانونی طور پر رقم نکالنے کے 2 معاملوں کے علاوہ دُمکا ٹریژری سے غیر قانوی طور پر رقم نکالنے اور ڈورنڈا معاملے میں بھی سزا سنائی جا چکی ہے۔












