ترقی اور ماحولیات کے توازن کو مدنظر رکھتے ہوئے سپریم کورٹ نے بدھ کو ایک اہم فیصلہ سنایا۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ مستقبل میں کسی بھی نئے منصوبے کو شروع کرنے سے قبل ہی ماحولیاتی منظوری لینا لازمی ہوگا۔ کام شروع ہونے کے بعد منظوری نہیں ملے گی۔ ساتھ ہی عدالت نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ صرف مستقبل میں شروع ہونے والے منصوبوں پر نافذ ہوگا۔ پہلے سے ماحولیاتی منظوری حاصل کر چکے منصوبے اس سے متاثر نہیں ہوں گے۔
اس کے ساتھ ہی عدالت نے 2021 کے سرکاری حکم کو منسوخ کر دیا، جس میں مرکزی حکومت کو منصوبوں کے کام شروع ہونے یا اس کی تکمیل کے بعد ماحولیاتی منظوری دینے کا اختیار دیا گیا تھا۔ سی جے آئی سوریہ کانت کی سربراہی والے 3 ججوں کی بنچ نے کل 49 عرضیوں پر اپنا یہ فیصلہ سنایا ہے۔ یہ عرضیاں ان منصوبوں سے وابستہ تھیں، جنہوں نے ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی کی تھی اور انہیں بعد میں منظوری دی گئی تھی۔
مرکزی حکومت کے 2021 کے حکم کے تحت کمپنیاں ماحولیاتی منظوری کے بغیر بھی اپنا منصوبہ شروع کر سکتی تھیں اور بعد میں حکومت سے منظوری لے لیتی تھیں۔ سپریم کورٹ نے حکومت کے اس 2021 والے حکم کو مکمل طور سے ختم کر دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ ماحولیات کو نقصان پہنچانے کے بعد معافی مانگنے کا یہ نظام غلط ہے۔ آئندہ سے کوئی بھی کمپنی پہلے اجازت لیے بغیر اپنا کام شروع نہیں کر پائے گی۔
عدالت نے یہ بھی کہا کہ جن کمپنیوں یا منصوبوں کو اس پرانے قانون کے تحت پہلے ہی منظوری مل چکی ہے، وہ محفوظ ہیں اور ان کا کام چلتا رہے گا۔ ان کے اوپر اس فیصلے کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ سی جے آئی سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیہ باغچی اور جسٹس وپل پنچولی کی بنچ نے یہ فیصلہ سنایا۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے اس معاملے میں 6 دنوں کی سماعت کے بعد یکم اپریل 2026 کو فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔

















