ہندوستان میں رسوئی گیس کا بحران غریب و مزدور طبقہ کے لیے مستقل پریشانیاں بڑھا رہا ہے۔ بڑی تعداد میں لوگ شہر چھوڑ کر گاؤں کی طرف رخ کر رہے ہیں۔ ان حالات کے لیے کانگریس نے مرکز کی مودی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں رسوئی گیس کے بحران نے ہر طبقہ کو مشکل میں ڈال دیا ہے، اور یہ سب مودی حکومت کی خراب پالیسی کا نتیجہ ہے۔
کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر کچھ میڈیا اداروں کی ویڈیو رپورٹ کا چھوٹا حصہ شیئر کر خراب صورت حال کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ان ویڈیوز میں عوام اپنی پریشانی بیان کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ ’آج تک‘ کی ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کانگریس نے ایک مزدور کا بیان درج کیا ہے، جس میں وہ کہتا ہے کہ ’’گجرات میں کام کرتا تھا، لیکن اب گھر جا رہا ہوں۔ 500 روپے میں بھرا جانے والا سلنڈر 1500 روپے میں مل رہا ہے۔‘‘ اس بیان کو پیش کرنے کے بعد کانگریس نے لکھا ہے کہ ’’ایل پی جی کی قلت سے کئی ہوٹل بند ہو گئے۔ جو کھلے ہوئے ہیں، وہاں کھانا بھی بہت مہنگا ہو گیا ہے۔ یہ ملک کی حقیقی حالت ہے، لیکن مودی حکومت نے ذمہ داری لینے کی جگہ عوام کو ان کے حال پر چھوڑ دیا ہے۔
کانگریس نے ’للن ٹاپ‘ کی بھی ایک ویڈیو اپنے ’ایکس‘ ہینڈل سے شیئر کی ہے، جس میں ایک خاتون مزدور اپنی حالت زار بیان کر رہی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’’500 روپے دِہاڑی میں 400 روپے کلو کی گیس کیسے بھرا پائیں گے؟ مکان مالک چولہا جلانے نہیں دیتے، بچے کب تک بھوکے رہیں گے؟‘‘ اس بیان پر کانگریس نے اپنا سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’ملک کی غریب عوام ایل پی جی کی قلت سے نبرد آزما ہے۔ خواتین بے حال ہیں۔ لیکن مودی حکومت کو فرق نہیں پڑ رہا، کیونکہ ان کے لیے تو ملک میں ’سب چنگا‘ ہے۔


















