آسام میں بی جے پی کے آفیشل سوشل میڈیا ہینڈل سے شیئر کی گئی ایک اقلیت مخالف ویڈیو نے سیاسی ماحول کو گرما دیا ہے۔ اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد کانگریس پارٹی نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے نہ صرف انتہائی گھناؤنا اور تشویش ناک قرار دیا بلکہ اسے سماج میں نفرت اور تشدد کو ہوا دینے کی خطرناک کوشش بتایا۔
کانگریس کے مطابق آسام بی جے پی کے پردیش ہینڈل سے پوسٹ کیے گئے اس ویڈیو میں وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کو علامتی انداز میں مسلمانوں پر ’پوائنٹ بلینک‘ رینج سے فائر کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو کے ساتھ “پوائنٹ بلینک شوٹ” جیسا کیپشن درج تھا۔ اس کے علاوہ اس میں آسامیا زبان میں ایسے جملے بھی دکھائے گئے جن میں ’غیر ملکیوں سے آزاد آسام‘، ’کوئی رحم نہیں‘ اور ’تم پاکستان کیوں نہیں گئے‘ جیسے الفاظ شامل تھے۔
ویڈیو کے بعض حصوں میں وزیر اعلیٰ کو رائفل سے نشانہ لگاتے اور بعد میں مغربی طرز کے لباس میں دکھایا گیا، جسے ناقدین مسلمانوں کے خلاف سخت کارروائی کی علامتی پیش کش قرار دے رہے ہیں۔کانگریس نے اپنے آفیشل بیان میں کہا کہ اس مواد کو محض ٹرولنگ کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پارٹی کے مطابق یہ ویڈیو اقلیتوں کے خلاف ٹارگیٹڈ تشدد کی ستائش اور اس کی ذہنی تیاری کا اظہار ہے۔ کانگریس نے الزام عائد کیا کہ اس طرح کے پیغامات سماج میں زہر گھولنے اور فرقہ وارانہ دشمنی کو معمول بنانے کی کوشش ہیں، جو ملک کو نفرت کی بھٹی میں جھونکنے کے مترادف ہو سکتے ہیں۔


















