راشٹروادی کانگریس پارٹی (شرد چندر پوار) کی ورکنگ صدر اور رکن پارلیمنٹ سپریا سولے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر سعودی عرب میں پھنسے ہوئے 41 ہندوستانی شہریوں کو بحفاظت واپس لانے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ’’یہ تمام لوگ مہاراشٹر کے بھوکردن ضلع سے ہیں اور فی الحال سعودی عرب کی راجدھانی ریاض میں پھنسے ہوئے ہیں۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ ریاض سے ممبئی لوٹنے والی ان کی اکاسا ایئر کی پرواز اچانک منسوخ کر دی گئی تھی، جس کی وجہ سے وہ سفر نہیں کر پا رہے ہیں۔
سپریا سولے نے متاثرہ مسافروں کی فہرست بھی شیئر کی ہے، جس میں آفرین بیگم شیخ نثار شیخ، شیخ طالب شیخ رؤف، سکندر خان عثمان خان، حسینہ بیگم سکندر خان، شیخ انور شیخ غفار، امجد سکندر خان، اسما انور شیخ، سریا بی سکندر خان پٹھان، سیما بیگم سکندر خان پٹھان، سکندر منور خان، شیخ عزیر شیخ انور، میمن بی حاکم شیخ، جملیہ بیگم وسیم احمد قاسمی، رفیق سعید قادری، سمیہ رفیق قادری، قادر غازی بیگ، واحدہ بی قادر بیگ، رفیق ماجد شیخ، شکیل بائی رفیق شیخ شامل ہیں۔
ان کے علاوہ غوری بی مختار شیخ، شیخ بشیر شیخ ناصر، شیخ انیسہ شیخ بشیر، ایم آر ظفر شیخ بشیر، سلطان شیخ ظفر، شیخ انصار شیخ نثار، یونس شیخ یوسف، شیخ عبد الرؤف محمد یوسف، خورشید بی یوسف شیخ، شکیل بی یونس شیخ، رضیہ بی شیخ عبد الرؤف، نعیمہ سعید احمد قادری، منیرہ بیگم غلام نبی شیخ، شیخ سلطان شیخ عثمان، سہیل قاسمی، آفرین سہیل قاسمی، ایم ایس ٹی آر ذکوان سہیل قاسمی، ایم ایس ٹی آر معاذ سہیل قاسمی اور عائشہ سہلی قاسمی شامل ہیں۔
سپریا سولے نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ اس وقت مسافروں کی سیکورٹی اور آسان واپسی کو یقینی بنانا انتہائی ضروری ہے۔ اس کے لیے سپریا سولے نے وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر اور سعودی عرب میں ہندوستان کے سفارتخانہ اور وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال سے فوری طور پر مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ متاثرہ شہریوں کو جلد از جلد ہندوستان لانے کا عمل شروع کیا جائے اور انہیں ضروری تعاون فراہم کی جائے۔ سپریا سولے نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ معاملہ صرف ایک سفر منسوخ ہونے کا نہیں بلکہ کئی لوگوں کے محفوظ واپسی کا معاملہ ہے۔ انہوں نے متعلقہ افسران سے اپیل کی کہ تمام قانونی اور انتظامی رکاوٹوں کو پار کر فوری طور پر ان شہریوں کو ہندوستان لوٹانے کا انتظام کیا جائے۔


















