یوپی کے مہوبا میں ڈھکواہا گاؤں سے مڈ-ڈے-میل کی بے حد شرمناک تصویر سامنے آئی ہے، جس نے محکمہ تعلیم کو سوالوں کے گھیرے میں لا دیا ہے۔ یہاں دودھ میں پانی نہیں بلکہ بالٹی بھر دودھ میں صرف 2 پیکٹ دودھ ملا کر بچوں کو دیا گیا۔ کانگریس نے اپنے آفیشل ’ایکس‘ ہینڈل سے اس تعلق سے 2 پوسٹ کی۔ پہلی پوسٹ میں کانگریس نے ’ڈرامے بازی 100 فیصد اور ذمہ داری صفر فیصد‘ کے کیپشن سے ایک ویڈیو شیئر کی۔ ویڈیو میں ایک طرف وزیر اعظم نریندر مودی بچوں کی نشوونما اور غذائیت پر بات کر رہے ہیں تو دوسری طرف ایک بالٹی دودھ میں محض 2 پیکٹ دودھ ملائے جانے کی ویڈیو چل رہی ہے۔
کانگریس نے دوسری پوسٹ میں پانی میں دودھ ملانے کی مکمل ویڈیو شیئر کی ہے۔ اس کے کیپشن میں کانگریس نے لکھا کہ ’’2 پیکٹ دودھ، 10 لیٹر پانی میں ملا لو ایک بالٹی ’دودھ‘ بنا لو۔ یہ یوپی کے اسکولوں میں دودھ بنانے کی ریسیپی ہے۔‘‘ ساتھ ہی کانگریس نے بی جے پی حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے لکھا کہ ’’بی جے پی حکومت میں بچوں کو پانی والا دودھ پلا کر، ذمہ دار ملائی کھا رہے ہیں۔ سوال ہے کیا بی جے پی کے لیڈر اپنے بچوں کو یہ دودھ پلائیں گے؟
واضح رہے کہ وائرل ویڈیو میں صاف طور پر نظر آ رہا ہے کہ پرنسپل کی موجودگی میں کھلے عام پانی میں دودھ ملایا جا رہا ہے۔ یہ ویڈیو سرکاری دعووں اور معصوم بچوں کی غذائیت کے نام پر جاری کھیل کو بے نقاب کر رہی ہے۔ ایک بالٹی پانی میں جب 2 پیکٹ دودھ ڈالے گئے تو پانی کا رنگ سفید ہو گیا۔ پھر بچوں کو ملاوٹی دودھ تقسیم کرنے کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ ویڈیو میں پرنسپل بڑے پراعتماد انداز میں بچوں کو دودھ پینے کے لیے بلاتی ہوئی سنائی دے رہی ہیں۔
لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ صرف لاپرواہی نہیں بلکہ بچوں کے حق پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے، ان کی صحت کے ساتھ کھلواڑ کیا جا رہا ہے۔ مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ اسکول میں نہ صرف خوراک بلکہ تعلیم کے ساتھ بھی کھلواڑ ہو رہا ہے۔ پرنسپل اکثر اسکول میں سوتی ہوئی پائی جاتی ہیں۔ قوانین کو طاق پر رکھ کر اپنی مرضی سے اسکول چلایا جا رہا ہے۔ مڈ-ڈے میل کے بجٹ میں کٹوتی کر اپنی جیبیں بھرنے کا کھیل بے نقاب ہو چکا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ اس معاملے پر نوٹس لیتے ہوئے بیسک ایجوکیشن آفیسر (بی ایس اے) راہل مشرا نے تحقیقات کا حکم دیا ہے۔


















