مدھیہ پردیش کی دتیا نشست پر شام 6 بجے تک تقریباً 71.40 فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی، جس میں حتمی اعداد و شمار آنے کے بعد معمولی اضافہ ممکن ہے۔ ضلع انتخابی افسر سوپنل وانکھیڑے کے مطابق صبح سے ہی ووٹروں کی اچھی آمد رہی اور پورا انتخابی عمل پرامن ماحول میں مکمل ہوا۔ کسی ناخوشگوار واقعے یا بڑی شکایت کی اطلاع نہیں ملی۔
دتیا نشست پر بھارتیہ جنتا پارٹی نے آشوتوش تیواری کو میدان میں اتارا ہے، جبکہ کانگریس کے امیدوار گھنشام سنگھ ہیں۔ آزاد سماج پارٹی کے دامودر سنگھ یادو سمیت دیگر امیدوار بھی مقابلے میں ہیں۔ یہ نشست کانگریس کے سابق رکن اسمبلی راجیندر بھارتی کی رکنیت ختم ہونے کے بعد خالی ہوئی تھی۔
تاہم ووٹنگ کے دوران کانگریس نے انتظامیہ پر جانبداری کا الزام بھی عائد کیا۔ پارٹی نے دعویٰ کیا کہ رام ساگر کے ایک پولنگ بوتھ سے اس کے پولنگ ایجنٹ کو بلاوجہ پولیس اپنے ساتھ لے گئی تاکہ آزادانہ اور منصفانہ ووٹنگ متاثر ہو سکے۔ دوسری جانب انتخابی حکام نے تمام پولنگ مراکز پر ووٹنگ کے پرامن انعقاد کی بات کہی ہے۔
ووٹنگ کے دوران پرشانت کشور نے پولیس پر الزام لگایا کہ اس نے حکمراں جماعت کے اشارے پر ان کے حامیوں اور پولنگ ایجنٹوں کو حراست میں لیا۔ اس دوران ان کی پٹنہ کی ایک سینئر پولیس افسر سے تلخ نوک جھونک بھی ہوئی۔ راشٹریہ جنتا دل کی امیدوار ریکھا گپتا نے بھی بی جے پی اور پولیس پر انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کیے۔
گجرات کی منجل پور اسمبلی نشست پر شام پانچ بجے تک 34.35 فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی۔ یہ نشست بی جے پی کے سینئر رہنما اور سابق وزیر یوگیش پٹیل کے انتقال کے بعد خالی ہوئی تھی۔ یہاں بی جے پی کے ستیش پٹیل اور کانگریس کے بھیکھا بھائی رباری کے درمیان براہِ راست مقابلہ ہے۔
منجل پور میں مجموعی طور پر ووٹنگ پرامن رہی، تاہم ایک پولنگ اسٹیشن کے باہر بی جے پی اور کانگریس کارکنوں کے درمیان معمولی جھڑپ کی اطلاع ملی، جسے پولیس نے فوری مداخلت کرکے قابو میں کر لیا۔ تینوں اسمبلی نشستوں پر ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی 3 اگست کو ہوگی، جس کے بعد نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔
















