دہلی پولیس نے سرکاری اجازت کے بغیر سابق آرمی چیف جنرل ایم ایم نرونے کی غیر مطبوعہ کتاب ’فور اسٹارز آف ڈیسٹینی‘ کی پری پرنٹ کاپی آن لائن عام کئے جانے کے معاملہ میں ایف آئی آر درج کی ہے۔ حالیہ کچھ دنوں سے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اسی کتاب میں موجود یادداشتوں پر پارلیمنٹ میں وزیر اعظم مودی اور بی جے پی حکومت کو گیرا تھا اور پی ایم مودی پر سنگین الزامات لگائے تھے۔
ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دہلی پولیس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور آن لائن نیوز فورمز پر نشر ہو رہی ان اطلاعات کا نوٹس لیا ہے، جن میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’فور اسٹارز آف ڈیسٹینی‘ نامی کتاب کی کاپی عام کی جا رہی ہے اور کتاب کا غیر مطبوعہ نسخہ انٹرنیٹ پر دستیاب ہے، حالانکہ ابھی تک اس کی اشاعت کے لیے مجاز افسران سے ضروری منظوری نہیں لی گئی ہے۔
دہلی پولیس نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ اسی عنوان والی اور میسرس پینگوئن رینڈم ہاؤس انڈیا پرائیویٹ لمیٹیڈ کے ذریعہ تیار کی گئی ایک ٹائپ شدہ کتاب کی پی ڈی ایف کاپی کچھ ویب سائٹوں پر دستیاب ہے۔ اس کے علاوہ کچھ آن لائن شاپنگ اور مارکیٹنگ پلیٹ فارمز نے تیار شدہ کتاب کے سرورق کو پیش کر کے یہ تاثر دیا گیا کہ گویا وہ فروخت کے لیے دستیاب ہے۔
پولیس نے بتایا کہ معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے اس مبینہ لیک یا غیر منظور شدہ اشاعتی مواد کی خلاف ورزی کی مکمل جانچ کے لیے اسپیشل سیل کے پاس ایک کیس درج کیا گیا ہے اور تحقیقات جاری ہے۔ تفتیش کار اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ ہاتھ سے لکھی ہوئی کاپی کیسے لیک ہوئی، کس نے اسے آن لائن اپ لوڈ کیا اور کیا کوئی منظم نیٹ ورک غیر مجاز مواد کو پھیلانے میں ملوث تھا۔ پولیس ڈیجیٹل شواہد کی بھی گہرائی سے چھان بین کر رہی ہے اور پی ڈی ایف کاپی کے ماخذ اور تشہیر کا پتہ لگانے کے لیے آن لائن پلیٹ فارمز کے ساتھ ہم آہنگی کر رہی ہے۔


















