بہار میں اسمبلی انتخابات سے پہلے خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر)کے عمل کے درمیان ایک اور چونکا دینے والی خبر سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈرافٹ لسٹ سے مزید تین لاکھ نام ووٹرزکے نام حذف ہوسکتے ہیں۔ الیکشن کمیشن بی ایل اوز کے ذریعہ ووٹرز کو نوٹس بھیج رہا ہے۔ ضروری دستاویزات اور ثبوت فراہم کرنے کے لیے نوٹس بھیجے جا رہے ہیں۔
کہا جارہا ہے کہ نوٹس ملنے کے بعد سات دن کا وقت دیا جائے گا۔ اس کے بعد ای آر او فیصلہ کرے گا۔ الیکشن کمیشن کو ان تین لاکھ ناموں پر شک ہے۔ جن اضلاع میں سب سے زیادہ ووٹروں کے ناموں پر شکوک و شبہات پیدا ہوئے ہیں وہ ہیں کشن گنج، مدھوبنی، پورنیہ، مغربی چمپارن، ارریہ اور سہرسہ۔ ان اضلاع میں بڑی تعداد میں ایسے ناموں کو نشان زد کیا گیا ہے، جن کی تحقیقات جاری ہیں۔
واضح رہے کہ ایس آئی آر کے عمل کے دوران تقریباً 65 لاکھ ووٹرز کے نام ووٹر لسٹ سے پہلے ہی نکالے جا چکے ہیں۔ اب دوبارہ بڑے پیمانے پر فہرست سے ووٹرز کے نام نکالے جا سکتے ہیں۔ حتمی فہرست ہر نام کی جانچ اور تصدیق کے بعد جاری کی جائے گی۔ کمیشن نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی حق رائے دہندہ کو محروم نہیں رکھا جائے گا اور انہیں اپنی شناخت اور رہائش ثابت کرنے کے لیے کافی وقت دیا جائے گا۔
غور طلب ہے کہ بہار میں اس سال اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ بہار میں ووٹر لسٹ پر نظر ثانی کی مہم ایک ماہ سے جاری ہے۔ اس کے بعد ووٹر لسٹ کا مسودہ جاری کیا گیا۔ یہ قدم ووٹر لسٹ کی پاکیزگی اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ اس پر بہت سیاست ہوئی۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ الیکشن کمیشن بی جے پی کے کہنے پر کام کر رہا ہے۔ ووٹر لسٹ سے غریبوں کے نام نکالے جا رہے ہیں۔ راہل گاندھی اور تیجسوی یادو اس مہم کے خلاف بہار میں ووٹر ادھیکار یاترا کر رہے ہیں جس کا آج ۱۳واں دن ہے۔