مدھیہ پردیش کے ضلع بیتول میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں ایک نوجوان جو بارہویں جماعت کا ٹاپر رہاہے , پر اپنے والدین اور بھائی کے قتل کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور معاملے کی تفتیش جاری ہے۔ واقعہ کوتوالی تھانے کے تحت آنے والے سانواگا گاؤں میں پیش آیا۔
پولیس سپرنٹنڈنٹ وریندر کمار جین نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ ہلاک ہونے والوں کی شناخت راجو عرف ہنسو دھروے، کملتی دھروے اور دلیپ دھروے کے طور پر ہوئی ہے۔ واقعے میں پانچ سالہ بھانجا پرشانت پرتے بھی شدید زخمی ہوا ہے جسے علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔ گھر کے اندر ایک بلی بھی مردہ حالت میں ملی۔
اطلاعات کے مطابق جمعرات کی دوپہر تک گھر کا دروازہ نہ کھلنے پر پڑوسیوں کو تشویش ہوئی۔ دروازہ کھٹکھٹانے کے باوجود کوئی جواب نہ ملنے پر مقامی افراد اندر داخل ہوئے تو ملزم گھر میں موجود تھا۔ پولیس کو اطلاع دی گئی جس کے بعد ٹیم موقع پر پہنچی اور ملزم کو حراست میں لے لیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ سے لوہے کی راڈ اور ڈنڈے برآمد ہوئے ہیں جنہیں قبضے میں لے لیا گیا ہے۔ فارینزک ٹیم نے بھی شواہد اکٹھا کیے ہیں اور واقعے کے تمام پہلوؤں کی جانچ کی جا رہی ہے۔پڑوسیوں کے مطابق 25 سالہ ملزم کی ذہنی حالت گزشتہ چند برسوں سے متاثر بتائی جاتی ہے اور اس کا ناگپور میں علاج چل رہا تھا۔ پولیس نے یہ بھی بتایا کہ حالیہ دنوں میں وہ ایک بھرتی امتحان میں کامیاب نہیں ہو سکا تھا، تاہم حکام نے واضح کیا ہے کہ واقعے کی وجوہات کے بارے میں حتمی رائے تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئے گی۔
یہ واقعہ ایک بار پھر ذہنی صحت کے مسائل کی بروقت تشخیص اور مسلسل علاج کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے، خصوصاً ایسے معاملات میں جہاں مریض پہلے سے زیر علاج ہو۔ پولیس نے کہا ہے کہ مزید حقائق تفتیش کے بعد سامنے آئیں گے۔














