جمعرات کو اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے میتھلی ٹھاکر نے بالواسطہ طور سے آر جے ڈی صدر لالو پرساد یادو کے چھوٹے بیٹے تیجسوی یادو کے لیے ہمدردی کا موازنہ مہابھارت کے دور میں ہستنا پور کے راجا دھرتراشٹر کے بیٹے دوریودھن کے تئیں ہمدردی سے کیا تھا۔ جس کے بعد بہار اسمبلی میں میتھلی کے بیان کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے آر جے ڈی کے کارگزار صدر تیجسوی یادو نے جوابی حملہ کیا ہے۔
اگرچہ میتھلی نے لالو پرساد یادو یا ان کی پارٹی کا نام نہیں لیا، لیکن ’2005 سے پہلے کا بہار‘ کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے اشاروں سے صاف کر دیا کہ وہ آر جے ڈی کے سابقہ دور حکومت پر تنقید کر رہی ہیں۔ اس پر تیجسوی یادو نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ’’کچھ لوگ، ایم ایل اے بنتے ہی سیاست کا مکمل علم رکھنے کا گمان کر لیتے ہیں۔ قانون سازی کے معاملات کی بنیادی باتوں کو سمجھے بغیر ان میں ایک مقبول لیڈر کے بارے میں توہین آمیز تبصرے کرنے کی ہمت آجاتی ہے۔‘‘
راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے لیڈر تیجسوی یادو نے ایک اور سوشل میڈیا پوسٹ میں بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار پر سخت حملہ کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریاست میں امن و امان مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے جس سے افرا تفری اور بدامنی کا ماحول ہے۔ تیجسوی نے کہا کہ جرائم پیشہ کو طاقت کے تحفظ سے حوصلہ ملتا ہے اور یہ بھی کہ جرائم پیشہ و حکمران لیڈروں کے درمیان گٹھ جوڑ پروان چڑھ رہا ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں یہ بھی کہا کہ حکومت کا سربراہ بے ہوشی کی حالت میں نظر آرہا ہے جس کی وجہ سے عام لوگ پریشان ہیں، انتظامی نظام بدعنوانی میں ڈوبا ہوا ہے اور جرائم پیشہ افراد بغیر کسی خوف کے سرگرم ہیں۔












