عام لوگوں کے درمیان عدالیہ میں بدعنوانی کا خیال آتے ہی روح کانپ جاتی ہے مگرملک میں تعلیم کا نصاب طے کرنے والے این سی ای آر ٹی کے نصاب میں اس حوالے سے ایک پورا باب شامل کیا گیا ہے جس پرتنازع کھڑا ہوگیا ہے۔ معاملے کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے این سی ای آرٹی کلاس 8 کی سوشل سائنس کی کتاب میں عدلیہ میں بدعنوانی سے متعلق مواد کا ازخود نوٹس لے لیا ہے۔
ہندوستان کے چیف جسٹس (سی جے آئی) سوریہ کانت نے این سی ای آرٹی کی کتاب میں ’عدلیہ میں بدعنوانی‘ سے متعلق باب پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاملے کا ازخود نوٹس لے رہے ہیں۔ کسی کو بھی اس بات کی اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ عدلیہ کو بدنام کرے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ میں کسی کو بھی ادارے کو بدنام کرنے کی اجازت نہیں دوں گا۔ اس سلسلے میں قانون اپنا کام کرے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ضرورت پڑی تو ازخود نوٹس لے کرعدالت کارروائی کرے گی۔
معاملہ اس ایک متن سے متعلق ہے جس میں عدلیہ میں بدعنوانی سے متعلق ایک باب شامل کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں سینئر وکلاء سبل اور ابھیشیک منو سنگھوی نے عدالت کے سامنے یہ معاملہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ اسکول کے بچوں کو ایسا مواد پڑھایا جانا تشویشناک ہے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ انہیں اس موضوع پر متعدد فون کالز اور پیغامات موصول ہوئے ہیں اور وہ اس معاملے سے پوری طرح واقف ہیں۔


















