غازی آباد کے تھانہ ٹیلا موڑ علاقے میں واقع بھارت سٹی میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک ہی خاندان کی تین نابالغ سگی بہنوں نے مبینہ طور پر عمارت کی نویں منزل سے چھلانگ لگا کر اپنی جان دے دی۔ اس دل دہلا دینے والے سانحے کے بعد پورے علاقے میں غم اور سناٹا چھا گیا ہے۔ آئی اے این ایس کی رپورٹ کے مطابق، پولیس نے موقع پر پہنچ کر معاملے کی جانچ شروع کر دی ہے اور ہر پہلو سے تفتیش کی جا رہی ہے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق یہ واقعہ دیر رات تقریباً سوا دو بجے پیش آیا۔ مقامی افراد نے اچانک تیز آواز سنی، وہ باہر نکل کر آئے تو انہوں نے دیکھا تو تینوں بچیاں عمارت کے نیچے زمین پر پڑی تھیں۔ فوری طور پر پولیس اور اہل خانہ کو اطلاع دی گئی۔ بچیوں کو ایمبولینس کے ذریعے نزدیکی اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔
پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والی بہنوں کی شناخت نشیکا (16 سال)، پراچی (14 سال) اور پاکھی (12 سال) کے طور پر ہوئی ہے۔ تینوں ایک ہی فلیٹ میں اپنے والدین کے ساتھ رہتی تھیں۔ ایک ساتھ اس انتہائی قدم اٹھانے کی وجہ ابھی تک واضح نہیں ہو سکی ہے۔
موقع سے ایک صفحے پر مشتمل مختصر نوٹ بھی برآمد ہوا ہے جس پر صرف ’ممی پاپا سوری‘ لکھا ہوا ہے۔ پولیس اس نوٹ کو جانچ کا اہم حصہ مان رہی ہے۔ تفتیشی افسران کا کہنا ہے کہ نوٹ کی تحریر اور دیگر پہلوؤں کی بھی جانچ کی جا رہی ہے تاکہ حقیقت تک پہنچا جا سکے۔
ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ تینوں بہنیں ایک آن لائن ٹاسک پر مبنی کوریائی لور گیم سے منسلک تھیں اور کافی عرصے سے اس میں سرگرم تھیں۔ پولیس اس پہلو کو بھی سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے کہ آیا اس گیم یا کسی آن لائن دباؤ کا اس واقعے سے کوئی تعلق ہے یا نہیں۔ تاہم حکام نے واضح کیا ہے کہ حتمی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے تمام شواہد کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا۔
پولیس کمشنر اتل کمار سنگھ کے مطابق رات تقریباً 2 بجکر 15 منٹ پر پی آر وی کے ذریعے اطلاع ملی تھی کہ بھارت سٹی کے ٹاور بی ایک، فلیٹ نمبر 907 کی بالکنی سے تین بچیاں کود گئی ہیں۔ ابتدائی جانچ میں تصدیق ہوئی ہے کہ زمین پر گرنے سے ہی ان کی موت واقع ہوئی۔
پولیس اہل خانہ سے پوچھ گچھ کے ساتھ ساتھ تینوں کے موبائل فون، آن لائن سرگرمیوں اور ڈیجیٹل ڈیٹا کی بھی تفصیلی جانچ کر رہی ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ اور ڈیجیٹل شواہد سامنے آنے کے بعد ہی واقعے کی مکمل تصویر واضح ہو سکے گی۔ علاقے کے لوگ اس سانحے سے شدید صدمے میں ہیں اور کم عمری میں پیش آئے اس واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کر رہے ہیں۔


















