اندور کے بھاگیرتھ پورہ میں مبینہ طور پر آلودہ پانی سے مزید ایک موت نے علاقہ میں پھر دہشت پیدا کر دی ہے۔ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ 54 سالہ رام نریش یادو گندہ پانی پینے سے بیمار ہوئے، اور پھر علاج کے دوران ان کا انتقال ہو گیا۔ اس علاقہ میں پانی سے پیدا بیماریوں کو لے کر پہلے ہی لوگ فکر مند ہیں، اب رام نریش یادو کی موت سے تشویش مزید بڑھ گئی ہے۔
بتایا جا رہا ہے کہ رام نریش یادو گزشتہ 2 ہفتہ سے بیمار تھے۔ انھیں 15 دنوں سے آئی سی یو میں رکھا گیا تھا جہاں منگل (24 فروری) کے روز علاج کے دوران ان کی موت ہو گئی۔ بدھ کے روز ان کی بیٹی پریرنا یادو نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ آلودہ پانی پینے کی وجہ سے ہی ان کی حالت خراب ہوئی تھی۔ اس کا کہنا ہے کہ ابتدا میں دست کی شکایت ہوئی، بعد میں پانی سے پھیلی بیماری بڑھ گئی اور انفیکشن پورے جسم میں پھیل گیا۔ گزشتہ 15 دنوں سے ان کا علاج آئی سی یو میں چل رہا تھا۔
اہل خانہ کا کہنا ہے کہ لگاتار الٹی اور دست کے سبب ان کی حالت سنگین ہوتی گئی، جسم بہت کمزور ہو گیا۔ جسم میں سوزش بھی دکھائی دینے لگی، جس کے بعد انھیں اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ میڈیکل جانچ میں مبینہ طور پر سامنے آیا کہ ان کے گردہ اور جگر کو شدید نقصان پہنچا تھا۔ گھر والوں کا ماننا ہے کہ انفیکشن پورے جسم میں پھیل گیا، جس سے کئی اعضا نے کام کرنا بند کر دیا اور آخر کار ان کی موت ہو گئی۔
مقامی باشندوں نے بتایا کہ بھاگیرتھ پورہ میں گزشتہ تقریباً ایک ماہ سے آلودہ پانی کا مسئلہ بنا ہوا ہے۔ نتیجہ یہ ہو رہا ہے کہ کئی لوگ بیمار پڑ چکے ہیں۔ کچھ لوگوں کا دعویٰ ہے کہ علاقے میں ہوئی دیگر اموات بھی پانی کی آلودگی سے جڑی ہوئی ہو سکتی ہیں۔ انتظامیہ نے قبل میں اسمبلی میں جانکاری دی تھی کہ تقریباً 20 اموات آلودہ پانی کے سبب ہوئی ہیں، حالانکہ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اصل تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی ہے۔

















