بہار قانون ساز اسمبلی کا بجٹ اجلاس پیر (2 فروری) کو باقاعدہ طور پر شروع ہو گیا۔ قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر پریم کمار اور قانون ساز کونسل کے چیئرمین اودھیش نارائن سنگھ نے اجلاس کے آغاز کا اعلان کیا۔ پہلے روز گورنر محمد عارف خان نے سنٹرل ہال میں مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا۔ اس دوران اسمبلی کے احاطے میں ایک انوکھا منظر دیکھنے کو ملا جب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو وہیل چیئر پر بیٹھے نظر آئے۔
دراصل تیسجودی یادو پیر کو گاڑی سے بہار اسمبلی کے احاطے میں پہنچے۔ گاڑی سے اترنے کے بعد جب وہ پیدل اسمبلی کی عمارت کی طرف جا رہے تھے تو ان کے قدم لڑکھڑاتے نظر آئے۔ بتایا گیا کہ پیر میں چوٹ کی وجہ سے انہیں چلنے میں پریشانی ہو رہی تھی۔ یہ دیکھ کر سیکورٹی اہلکاروں اور معاونین کی مدد سے انہیں سنبھالا گیا۔ اس کے بعد اسمبلی کے اندر داخلہ اور سنٹرل ہال تک جانے کے لیے وہیل چیئر کا انتظام کیا گیا، تاکہ انہیں کسی قسم کی پریشانی نہ ہو۔
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ 25 جنوری کو تیجسوی یادو ایک حادثہ میں زخمی ہو گئے تھے۔ یہ اطلاع راشٹریہ جنتادل نے سوشل میڈیا کے ذریعے دی۔ بتایا گیا کہ حادثے میں تیجسوی یادو کے پیر کے انگوٹھے کا ناخن اُکھڑ گیا تھا۔ انہیں ڈاکٹر کے پاس لے جایا گیا، ناخن کا علاج کیا گیا۔ ڈاکٹروں کی نگرانی میں وہ صحت یاب ہو رہے تھے۔ پیر کو بجٹ اجلاس کے پہلے روز جب وہ ایوان میں پہنچے تو وہیل چیئر کے ذریعہ انہیں اندر لے جایا گیا۔
بجٹ اجلاس کے پہلے روز پٹنہ میں نیٹ طالبہ کی موت کا معاملہ گونجا۔ گورنر کے خطاب کے دوران بھی خواتین اراکین اسمبلی نے یہ معاملہ اٹھایا، اپوزیشن اراکین کو ان کی حمایت حاصل ہوئی۔ ایوان کے باہر کانگریس، آر جے ڈی اور بائیں بازو کی جماعتوں کے اراکین اسمبلی نے جہان آباد کی طالبہ کے قتل کا معاملہ اٹھایا۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومت خواتین کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہے۔ اس معاملے کی تحقیقات کے سلسلے میں پولیس پر سنگین الزامات عائد کیے گئے۔ اپوزیشن اراکین اسمبلی نے میڈیا کو دیے بیان میں کہا کہ اصل گناہگار کو بچانے کے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ جواب میں نائب وزیر اعلیٰ وجے کمار سنہا نے کہا کہ سی بی آئی معاملے کی تحقیقات کرے گی، دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ قصوروار کسی بھی صورت میں بچ نہیں پائے گا۔













