لکھنؤ واقع کنگ جارج میڈیکل یونیورسٹی (کے جی ایم یو) انتظامیہ نے احاطہ کے اندر بنی 5 ناجائز مزاروں کو ہٹانے کے لیے پیر کے روز دوسرا نوٹس جاری کیا۔ اس سے قبل 22 جنوری کو مجموعی طور پر 6 مزاروں کو نوٹس دیا گیا تھا، جن میں سے صرف نیو آرتھوپیڈک احاطہ واقع مزار کمیٹی نے جواب دیا۔ بقیہ 5 کمیٹیوں کے ذریعہ خاموشی اختیار کرنے پر اب انھیں 28 فروری کو رجسٹرار کے سامنے پیش ہونے کا آخری موقع دیا گیا۔
کے جی ایم یو ترجمان ڈاکٹر کے کے سنگھ کے مطابق یہ مزاریں کے جی ایم یو کے سابق ملازمین کی ہیں جنھیں اہل خانہ نے خالی زمین پر دفن کر بعد میں ناجائز طریقے سے مزار بنا دیا تھا۔ کے جی ایم یو انتظامیہ نے جن مقامات پر مزاروں کو نشان زد کیا ہے، ان میں کوین میری ہاسپیٹل احاطہ، مائیکرو بایولوجی ڈپارٹمنٹ، نیو بوائز ہاسٹل، ریسپریٹری میڈیسن ڈپارٹمنٹ اور شتابدی فیز-2 ہاسپیٹل احاطہ شامل ہیں۔
کے جی ایم یو انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کو وسعت دی جا رہی ہے اور اسے اس زمین کی سخت ضرورت ہے۔ چونکہ یہ تعمیرات 30 سے 40 سال قدیم ہیں اور ناجائز طریقے سے بنائی گئی ہیں، اس لیے انھیں ہٹانا ضروری ہو گیا ہے۔ ایڈمنسٹریشن ذرائع کے مطابق کے جی ایم یو اور ضلع انتظامیہ نے مشترکہ طور سے ناجائز مزاروں کو منہدم کرنے کا خاکہ تیار کر لیا ہے۔ اگر 15 دنوں کے اندر تجاوزات کو نہیں ہٹایا گیا تو آخری نوٹس کے بعد بلڈوزر چلایا جائے گا۔ آرتھوپیڈک سپر اسپیشلٹی بھون اور ٹی جی ہاسٹل کے پاس موجود مزاروں سے متعلق صورت حال بھی واضح کر دی گئی ہے۔ نوٹس کی میعاد پوری ہوتے ہی کے جی ایم یو احاطہ کو ان ناجائز تعمیرات سے پاک کرانے کے لیے پولیس فورس کے ساتھ انہدامی کارروائی کی جائے گی۔


















