مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور ایران 2 ہفتوں کی جنگ بندی پر متفق ہو چکے ہیں۔ اس خبر سے پوری دنیا نے راحت کی سانس لی ہے۔ کئی ممالک نے اس جنگ بندی کا استقبال کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ حالات اب دھیرے دھیرے بہتری کی طرف بڑھیں گے۔ حالانکہ امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے فوجی حملوں کو 2 ہفتوں کے لیے روکنے پر اتفاق ظاہر کیے جانے کے بعد روس نے طنز کے تیر چلائے ہیں۔ روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زخارووا کے مطابق اس جنگ میں امریکہ اور اسرائیل کی شکست ہوئی ہے۔
ماریہ زخارووا نے کہا ہے کہ 28 فروری کو ایران پر بغیر اُکساوے کے کیا گیا یکطرفہ حملہ میں دونوں (امریکہ و اسرائیل) کی قریبی شکست ہوئی ہے۔ انھوں نے اسپوتنک ریڈیو پر کہا کہ ’’ہمارے ملک نے شروع سے ہی اپنے پہلے بیانات میں کہا تھا کہ اس حملہ کو فوراً روکنا ضروری ہے۔ فوراً ایک سیاسی و سفارتی حل شروع کرنے کی بات کہی گئی تھی، جو مذاکرہ کے عمل پر مبنی ہو اور جس میں سبھی فریقین کے حالات پر سنجیدگی سے غور کیا جائے۔
بہرحال، جنگ بندی کا استقبال جرمنی، فرانس، یوکرین، برطانیہ اور اسپین جیسے ممالک نے بھی کیا ہے۔ خلیجی ممالک نے تو اس جنگ بندی کے فیصلہ سے راحت کی سانس لی ہے، کیونکہ وہاں امریکی ٹھکانوں پر ایران لگاتار حملے کر رہا تھا۔ اس سے خلیجی ممالک میں جانی و مالی نقصانات بھی ہوئے ہیں۔ اب 2 ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان ہونے پر فرانسیسی صدر امینوئل میکروں نے اسے بہت اچھا قدم قرار دیا ہے۔ انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا ہے کہ ’’یہ معاہدہ علاقہ میں کشیدگی کم کرنے کی سمت میں مثبت پیش رفت ہے۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے تنبیہ دی کہ لبنان کی حالت انتہائی سنگین بنی ہوئی ہے، اس جنگ بندی میں لبنان کو بھی شامل کیا جانا چاہیے تاکہ پورے خطہ میں وسیع اور مستقل امن قائم کیا جا سکے۔
جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرج کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں سفارتی کوششوں کے ذریعہ جنگ کا مستقل حل نکالا جانا چاہیے۔ یوکرینی وزیر خارجہ اینڈری سبیہا نے جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کے کھلنے کا استقبال کرتے ہوئے امریکہ کو مشورہ دیا کہ اسے اسی طرح روس کو بھی یوکرین کے خلاف روکنے کے لیے مجبور کرنا چاہیے۔

















