مرکزی حکومت نے مردم شماری 2027 کے پہلے مرحلہ کے لیے 33 اہم سوالات جاری کر دیے ہیں، تاکہ لوگوں کو اس عمل کو سمجھنے میں آسانی ہو سکے۔ اس کے ساتھ ہی ایک ایف اے کیو (اکثر پوچھے جانے والے سوالات) پورٹل بھی شروع کیا گیا ہے، جہاں شہری خود اپنی معلومات درج کر سکیں گے۔ یہاں سے شہریوں کو کئی اہم جانکاریاں بھی حاصل ہو سکیں گی۔
اس بار مردم شماری میں ایک اہم تبدیلی دیکھنے کو ملی ہے۔ رجسٹرار جنرل اور مردم شماری کمشنر مرتیونجے کمار نارائن نے نیشنل میڈیا سنٹر میں ایک پریس کانفرنس میں معلومات فراہم کراتے ہوئے کہا کہ ’’مردم شماری ایکٹ میں ایک اہم التزام، دفعہ 15 شامل ہے۔ یہ التزام بتاتا ہے کہ ذاتی معلومات کو مکمل طور سے خفیہ مانا جاتا ہے۔ اسے آر ٹی آئی ایکٹ کے تحت شیئر نہیں کیا جا سکتا۔ اسے کسی دیگر تنظیم کے ساتھ بھی شیئر نہیں کیا جا سکتا ہے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کا کردار اس پورے عمل میں مرکزی ہے۔ ان کا پورا انتظامی نظام زمینی سطح پر کام کرنے میں مصروف ہے۔
حکومت کی جانب سے جاری ’ایف اے کیو‘ کے مطبق اگر کوئی لیو-اِن ریلیشن شپ میں رہ رہا جوڑا اپنے تعلقات کو مستحکم مانتا ہے تو اسے شادی شدہ جوڑے کے طور پر درج کیا جائے گا۔ یہ وضاحت مردم شماری کے ’سیلف-اینیومریشن پورٹل‘ پر دیے گئے ایک سوال کے جواب میں سامنے آیا ہے۔
واضح رہے کہ مرکزی کابینہ نے مردم شماری 2027 کے لیے 11718 کروڑ روپے منظور کیے ہیں۔ اس میں پہلی بار ذات پر مبنی مردم شماری بھی شامل ہوگی۔ آزادی کے بعد یہ ملک کی 16ویں مردم شماری ہوگی اور شہریوں کو خود شماری (سیلف- اینیومریشن) کا اختیار بھی دیا جائے گا۔ مردم شماری پہلے 2021 میں تجویز کی گئی تھی، لیکن کووڈ-19 کی وجہ سے اس عمل کو ملتوی کر دیا گیا تھا۔ اب اسے 2 مرحلوں میں مکمل کیا جائے گا۔ پہلا مرحلہ اپریل سے ستمبر 2026 تک مکانات کی گنتی اور دوسرا مرحلہ فروری 2027 میں آبادی کی گنتی پر مشتمل ہوگا۔


















